اربیٹرم کرپٹو ضبطی کیس کے وکیل نے ٹیتر کے خلاف 344 ملین ڈالر کی درخواست دائر کر دی

اربیٹرم کرپٹو ضبطی کے مقدمے میں سرگرم وکیل چارلس گرسٹین نے اب ٹیتر کے خلاف وفاقی عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران کی انقلابی گارڈ سے منسلک OFAC کی جانب سے منجمد کردہ USDT کو دہشت گردی کے غیر ادا شدہ فیصلے رکھنے والے متاثرین کو منتقل کیا جائے۔ اس قانونی کارروائی کا مقصد ٹیتر کی جانب سے منجمد اثاثوں کی منتقلی کو یقینی بنانا ہے تاکہ متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔ اس درخواست سے کرپٹو مارکیٹ میں قانونی پیچیدگیوں اور ریگولیٹری دباؤ میں اضافہ متوقع ہے، جو سرمایہ کاروں اور صارفین کے لیے اہم اثرات رکھتا ہے۔ اگر عدالت اس درخواست کو منظور کرتی ہے تو اس سے کرپٹو کرنسیوں کے خلاف قانونی کارروائیوں میں ایک نیا باب کھل سکتا ہے، جس کے تحت منجمد اثاثوں کی بازیابی کے لیے مزید مقدمات دائر ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں مارکیٹ میں احتیاطی رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے اور کرپٹو اثاثوں کی قانونی حیثیت پر بحث مزید گہری ہو سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

ٹیگز:
شئیر کیجیے: