ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے توانائی کی مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کو بے قابو قرار دیتے ہوئے خوراک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور اس سے خوراک کی مہنگائی میں اضافہ متوقع ہے۔ یہ بیان ایران کی بڑھتی ہوئی اقتصادی مشکلات کی عکاسی کرتا ہے جہاں توانائی کے شعبے میں عدم استحکام نے عام صارفین کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ قالیباف نے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ مارکیٹ کو مستحکم کیا جا سکے اور مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، اقتصادی حکام کو چاہیے کہ وہ توانائی کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے موثر پالیسیاں اپنائیں تاکہ عوام کو مہنگائی کے مزید اثرات سے بچایا جا سکے۔ اگر اس مسئلے کو بروقت حل نہ کیا گیا تو خوراک کی مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو ملک کی مجموعی معیشت پر منفی اثر ڈالے گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance