ایران کی قومی ایمرجنسی مینجمنٹ آرگنائزیشن کے سربراہ نے حالیہ تنازعے کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران میں 208 نابالغوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ان میں سے 168 طلباء ایک لڑکیوں کے اسکول پر مناب شہر میں ہونے والے حملے میں جان سے گئے۔ اس کے علاوہ ہلاک شدگان میں 13 بچے پانچ سال سے کم عمر کے تھے جن میں سب سے کم عمر تین دن کا بچہ بھی شامل ہے۔ یہ حملے نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے بلکہ خطے میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی صورتحال کو بھی مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
ان واقعات کے نتیجے میں ایران میں معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کرتی ہے اور مالی مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے۔ اس قسم کے حملے نظامی خطرات کو بڑھاتے ہیں اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات کو متاثر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے مالیاتی ادارے اور سرمایہ کار اپنے اثاثے محفوظ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتحال سے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کی کمی، ریگولیٹری خدشات اور سرمایہ کاری کے بہاؤ میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا امکان ہے، جو مجموعی طور پر خطے کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance