ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ٹینکرز کی ٹرانزٹ فیس کے لیے بٹ کوائن کو بطور ادائیگی قبول کرے گا۔ اس فیصلے کا مقصد ملک کی بین الاقوامی تجارت اور مالی نظام میں ڈیجیٹل کرپٹو کرنسیوں کو شامل کرنا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے ایران اپنی معیشت کو جدید بنانے اور عالمی مالیاتی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ اس سے نہ صرف ٹریڈ کے عمل میں آسانی آئے گی بلکہ کرپٹو کرنسی کے استعمال سے مالی شفافیت اور تیز تر لین دین ممکن ہو سکیں گے۔ اس تبدیلی کے فوری اثرات میں ٹرانزٹ فیس کی ادائیگی میں سہولت اور ممکنہ طور پر دیگر ممالک کی جانب سے بھی کرپٹو کرنسیوں کو اپنانے کے رجحان میں اضافہ شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوا تو یہ عالمی مالیاتی نظام میں کرپٹو کرنسیوں کے کردار کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ کچھ خطرات بھی وابستہ ہیں جن میں کرپٹو مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی مالیاتی قوانین کی پیچیدگیاں شامل ہیں۔ ایران کی یہ پیش رفت عالمی سطح پر کرپٹو کرنسیوں کے استعمال میں ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance