عالمی بانڈ ییلڈز میں اضافہ، قرضوں کے خدشات نے بٹ کوائن کے ہیج بیانیے کو آزمائش میں ڈال دیا

عالمی سطح پر طویل مدتی بانڈ ییلڈز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے حکومتوں اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے قرض لینا مہنگا ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت پیدا ہوئی ہے جب امریکی قومی قرض تقریباً 40 ٹریلین ڈالر کے قریب پہنچ رہا ہے اور مصنوعی ذہانت کے شعبے کی بڑی کمپنیاں اپنے توسیعی منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے بانڈز جاری کر رہی ہیں۔

الفابیٹ، ایمیزون، میٹا، مائیکروسافٹ اور اوریکل سمیت ہائپر اسکیلرز کی جانب سے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری نے کارپوریٹ قرضوں کی رسد میں اضافہ کیا ہے۔ سرمایہ کار اس اضافی سپلائی، بلند مالیاتی ضروریات اور مستقبل کی شرحِ سود کے بارے میں زیادہ معاوضہ طلب کر رہے ہیں، جس سے طویل مدتی ییلڈز پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

بلند ییلڈز بٹ کوائن کے لیے بھی اہم ہیں، کیونکہ یہ اثاثہ باقاعدہ آمدنی فراہم نہیں کرتا۔ جب سرکاری بانڈز زیادہ منافع دینے لگیں تو بٹ کوائن رکھنے کی موقع لاگت بڑھ جاتی ہے، جس سے اسے محفوظ پناہ گاہ یا مہنگائی سے بچاؤ کے اثاثے کے طور پر پیش کیا جانے والا بیانیہ آزمائش میں آتا ہے۔ آنے والے دنوں میں بانڈ نیلامیوں، امریکی مالیاتی پالیسی اور ہائپر اسکیلرز کی نئی قرض گیری پر خاص نظر رہے گی۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

شئیر کیجیے: