امریکی مالیاتی منڈیوں میں فیڈرل ریزرو کے آئندہ پالیسی فیصلوں پر توجہ بڑھ گئی ہے، جبکہ بٹ کوائن محدود دائرے میں مستحکم رہا اور عالمی بانڈ ییلڈز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ سرمایہ کار گزشتہ ماہ ہونے والے فیڈ کے شرحِ سود اجلاس کی کارروائی کے منتظر ہیں، جس سے مرکزی بینک کے آئندہ اقدامات کے بارے میں اشارے مل سکتے ہیں۔
بٹ کوائن حالیہ ہفتوں کے دوران تقریباً 60 ہزار سے 67 ہزار ڈالر کے دائرے میں تجارت کرتا رہا ہے۔ 19 اگست کو یہ مختصر وقت کے لیے 65 ہزار ڈالر سے اوپر گیا، مگر بعد میں معمولی دباؤ کا شکار ہوا۔ اس کے برعکس، عالمی سرکاری بانڈز کی قیمتوں میں کمی سے ییلڈز کئی برس کی بلند سطحوں تک پہنچ گئیں، جس کے باعث اسٹاک مارکیٹوں پر بھی دباؤ آیا۔
حالیہ نسبتاً نرم معاشی اعدادوشمار نے ستمبر میں شرحِ سود برقرار رہنے کی توقعات بڑھائی ہیں، تاہم بلند تیل قیمتیں افراطِ زر کے خطرات برقرار رکھتی ہیں۔ 30 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈ پانچ فیصد سے اوپر ہونے کے باعث سرمایہ کاروں کو بٹ کوائن کے مقابلے میں کم خطرے والا متبادل مل رہا ہے۔ آئندہ سمت کا انحصار فیڈ کی کارروائی، ڈالر اور معاشی اعدادوشمار پر ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk