ایک نئی تحقیق میں فیڈرل ریزرو نے تصدیق کی ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے آغاز کے بعد امریکی پروگرامرز کی ملازمتوں کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ تحقیق پہلی بار ادارہ جاتی سطح پر اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی اپنانے سے ڈویلپرز کی بھرتی میں کمی آئی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق، پروگرامرز کی ملازمتوں میں کمی کا تعلق براہ راست اے آئی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ہے، جس نے روایتی سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے عمل کو متاثر کیا ہے۔ اس کا فوری اثر یہ ہوا ہے کہ ٹیکنالوجی سیکٹر میں ملازمتوں کی طلب میں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ مستقبل میں، اگرچہ مصنوعی ذہانت کی ترقی جاری رہے گی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملازمتوں کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے شعبوں میں جہاں انسانی تخلیقی صلاحیت کی ضرورت ہو۔ تاہم، اس تبدیلی کے دوران ملازمین اور کمپنیوں کو نئے ہنر سیکھنے اور اپنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ بدلتے ہوئے ٹیکنالوجی ماحول میں کامیاب رہ سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt