ایتھیریم کے شریک بانی جوزف لوبن نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بڑے ٹیکنالوجی اداروں کے کنٹرول پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت چند بڑی کمپنیوں کے ہاتھوں میں محدود رہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ لوبن نے ایک انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی میں شفافیت اور مساوی رسائی ضروری ہے تاکہ صارفین اور مارکیٹ کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے ایتھیریم کی ترقی، میٹا ماسک، اسٹیبل کوائنز اور ٹوکنائزیشن کے حوالے سے بھی بات کی اور کوانٹم کمپیوٹنگ کو ایک طویل مدتی اور قابل انتظام مسئلہ قرار دیا۔ اس بیان سے مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے مستقبل پر بحث کو تقویت ملے گی۔ صارفین اور سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ ان ٹیکنالوجیز کے ممکنہ خطرات اور فوائد کو سمجھ کر آگے بڑھیں۔ آئندہ چند ماہ میں اس حوالے سے مزید قوانین اور ضوابط متوقع ہیں جو مارکیٹ کے ماحول کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk