اقتصادی ماہر حماد حسین نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدہ تیل کی مارکیٹ میں برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کے خام تیل کے معاہدوں کی قیمتوں کے فرق کو معمول پر لا سکتا ہے۔ برینٹ تیل عموماً ڈبلیو ٹی آئی کے مقابلے میں مہنگا ہوتا ہے، لیکن حالیہ تنازعہ کی وجہ سے یہ فرق غیر معمولی طور پر متاثر ہوا ہے۔ موجودہ صورتحال میں برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کے مختلف معاہدوں کی میعاد ختم ہونے کی تاریخوں کی وجہ سے قیمتوں میں الٹ پھیر دیکھی گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی سپلائی کی کمی نے مارکیٹ کو سخت متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے قلیل مدت میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ گیا ہے۔ تاہم، جنگ بندی کے بعد تیل کی فراہمی میں آسانی کی توقع ہے جو قیمتوں کے فرق کو کم کر سکتی ہے۔ اس تبدیلی کا فوری اثر مارکیٹ میں استحکام کی صورت میں نظر آ سکتا ہے، جس سے صارفین اور سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچے گا۔ آئندہ مہینوں میں سپلائی کی صورتحال میں بہتری کے امکانات موجود ہیں، لیکن جغرافیائی سیاسی حالات میں کسی بھی غیر متوقع تبدیلی سے مارکیٹ پر دوبارہ اثر پڑ سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance