بٹ کوائن کی قیمت میں 47 فیصد کمی کے باوجود تاجروں کی فروخت میں کمی

2026 کے آغاز میں بٹ کوائن کی قیمت میں شدید کمی دیکھی گئی جب اس کی قیمت 126,000 ڈالر کی بلند ترین سطح سے تقریباً 46 فیصد گر کر 61,000 ڈالر سے بھی نیچے چلی گئی۔ اس زوال نے مارکیٹ کی قدر میں ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کی کمی کی اور کرپٹو مارکیٹ میں ایک اہم موڑ کا عندیہ دیا۔ تاہم، اس کے باوجود بٹ کوائن کے زیادہ تر ہولڈرز نے اپنی پوزیشنز برقرار رکھی اور فروخت کرنے سے گریز کیا۔ ایک سروے کے مطابق، امریکی بٹ کوائن ہولڈرز میں خوف اور امید دونوں کے جذبات غالب رہے، جہاں 69 فیصد نے نہ تو اپنی بٹ کوائنز بیچی اور نہ ہی فروخت کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس کے برعکس، صرف 8 فیصد نے گھبراہٹ میں فروخت کی۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ کے باوجود بٹ کوائن کو طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مزید برآں، 66 فیصد ہولڈرز نے بٹ کوائن کی قیمت میں جلد بہتری کی توقع ظاہر کی، جس سے مارکیٹ میں اعتماد کی ایک سطح قائم ہے۔ اس دوران، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی سیاسی کشیدگی نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا، جس سے بٹ کوائن کی قیمت میں عارضی کمی واقع ہوئی۔ مجموعی طور پر، یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ بٹ کوائن کے سرمایہ کار جذباتی اتار چڑھاؤ کے باوجود اپنے اثاثے برقرار رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں، جو مارکیٹ کی استحکام کی علامت ہو سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

ٹیگز:
شئیر کیجیے: