ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (ڈی فائی) انشورنس پروٹوکولز نے 2020 کے کرپٹو بوم کے دوران بڑے خواب دیکھے تھے۔ ان پروٹوکولز کا مقصد صارفین کو ہیکنگ اور مالی نقصانات سے بچانا تھا۔ تاہم، وقت کے ساتھ ہیکنگ کے طریقے زیادہ پیچیدہ ہو گئے اور صارفین نے حفاظتی اقدامات کے بجائے زیادہ منافع کی تلاش کو ترجیح دی۔ اس رجحان کی وجہ سے زیادہ تر ڈی فائی انشورنس سیکٹر اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا اور وہی خطرات جن سے اسے بچانا تھا، اب اس کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف صارفین کے لیے مالی خطرات بڑھا دیے ہیں بلکہ کرپٹو مارکیٹ کی مجموعی ساکھ پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حفاظتی میکانزم کو مضبوط نہ کیا گیا تو مستقبل میں ہیکنگ کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید متاثر ہو گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات کو ترجیح دی جائے تاکہ صارفین کے اثاثے محفوظ رہ سکیں اور کرپٹو انڈسٹری کی ترقی جاری رہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk