چینالیسس نے پیش گوئی کی ہے کہ اسٹیبل کوائن کا حجم 2035 تک 719 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جو کہ قدرتی ترقی کی بنیاد پر ہے۔ تاہم، اگر دو اہم عوامل سامنے آئیں تو یہ حجم 1.5 کوآڈرلیئن ڈالر تک بھی پہنچ سکتا ہے، جو کہ عالمی سطح پر کراس بارڈر ادائیگیوں کے موجودہ اندازے سے زیادہ ہے۔ اس پیش گوئی کے مطابق، اسٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور استعمال مالیاتی نظام میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔ اس سے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی اور مالی شمولیت میں اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین اور کاروباری اداروں کو فائدہ ہوگا۔ تاہم، اس بڑے حجم کے ساتھ مالیاتی نگرانی اور ریگولیٹری چیلنجز بھی بڑھ سکتے ہیں، جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔ مستقبل میں اسٹیبل کوائنز کی ترقی مالیاتی نظام کی کارکردگی اور عالمی تجارت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance