بلیک راک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لیری فنک نے خبردار کیا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں فی بیرل 150 ڈالر تک پہنچ گئیں تو اس سے عالمی معیشت کو شدید کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ تنازعہ کے حتمی نتائج کا تعین ابھی مشکل ہے، لیکن امکان ہے کہ صورتحال دو انتہا پسندانہ مناظر میں سے کسی ایک میں ختم ہو۔ ایک ممکنہ صورت حال یہ ہے کہ اگر تنازعہ ختم ہو جائے اور ایران کو بین الاقوامی برادری میں دوبارہ شامل کیا جائے تو تیل کی قیمتیں تنازعہ سے پہلے کی سطح سے نیچے آ سکتی ہیں۔ تاہم، اگر ایسا نہ ہوا تو تیل کی قیمتیں کئی سالوں تک 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہ سکتی ہیں اور ممکنہ طور پر 150 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت پر گہرا منفی اثر پڑے گا۔ اس صورتحال میں شدید کساد بازاری کا خطرہ موجود ہے جو عالمی مارکیٹوں اور صارفین کے لیے چیلنجز پیدا کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران سے بچاؤ کے لیے عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی تعاون کی ضرورت ہوگی تاکہ تیل کی قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance