بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 68 ہزار ڈالر کی سطح سے اوپر پہنچ گیا۔ اس تیزی کے دوران کرپٹو ڈیریویٹو مارکیٹ میں شارٹ پوزیشنز کے بڑے پیمانے پر خاتمے سے تقریباً 1.4 ارب ڈالر کی پوزیشنز لیکویڈیٹ ہوئیں۔
مارکیٹ میں مثبت رجحان کی بنیادی وجہ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے بانڈ بائی بیکس کا حجم دوگنا کرنا بتایا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے سرمایہ کاروں میں خطرہ مول لینے کی خواہش بڑھی، جس کا اثر ڈیجیٹل اثاثوں اور دیگر خطرناک سرمایہ کاریوں پر بھی نظر آیا۔
بٹ کوائن کے ساتھ ایتھر اور سولانا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، جبکہ کرپٹو سے وابستہ کمپنیوں کے حصص نے بھی پیش رفت کی۔ شارٹ لیکویڈیشنز نے قیمتوں کی رفتار مزید تیز کی، تاہم ماہرین کے مطابق ایسی ریلی میں لیوریج کا کردار نمایاں ہونے کے باعث اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
آنے والے سیشنز میں سرمایہ کار امریکی مالیاتی پالیسی، بانڈ مارکیٹ کے ردعمل اور کرپٹو مارکیٹ میں نئے سرمائے کی آمد پر توجہ دیں گے۔ اگر خطرے کی طلب برقرار رہی تو قیمتوں کو مزید سہارا مل سکتا ہے، لیکن منافع وصولی یا لیکویڈٹی میں کمی دوبارہ دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk