فیڈرل ریزرو نے حال ہی میں اپنی بنیادی شرح سود کو 3.50 فیصد سے 3.75 فیصد کے درمیان برقرار رکھا ہے، جس سے مالیاتی مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اس فیصلے کے بعد بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 70,000 ڈالر کے قریب لڑ رہی ہے، جو کہ گزشتہ ہفتے کے 76,000 ڈالر کی بلند سطح سے نیچے آ گئی ہے۔ شرح سود میں استحکام کے باوجود، مہنگائی کی بلند سطح، ملازمتوں کی نمو میں سست روی، اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے اراکین میں رائے تقسیم رہی، جہاں اکثریت نے شرح سود کو برقرار رکھنے کی حمایت کی جبکہ ایک رکن نے کمی کی تجویز دی۔ اس دوران، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ نے عالمی معیشت پر دباؤ ڈالا ہے، جس کا اثر بٹ کوائن سمیت دیگر خطرناک اثاثوں کی قیمتوں پر بھی پڑا ہے۔
فیڈرل ریزرو کے چیئرمین نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث قلیل مدتی مہنگائی کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے، لیکن مکمل اقتصادی اثرات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شرح سود کا موجودہ دائرہ کار غیر جانبدار ہے اور مرکزی بینک کی خودمختاری کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں، مہنگائی کی مسلسل بلند سطح، اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو خطرناک اثاثوں سے دور کر دیا ہے، جس سے بٹ کوائن کی قیمت پر منفی اثر پڑا ہے۔ مستقبل میں، اگر عالمی حالات میں استحکام نہ آیا تو بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو کرنسیز کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine