عالمی مالیاتی منڈیوں میں جاری بحران کے دوران بٹ کوائن نے سونا اور اسٹاکس کی کارکردگی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وال اسٹریٹ کے بروکر برنسٹائن نے اس رجحان کی نشاندہی کی ہے کہ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے درمیان بٹ کوائن کی ملکیت میں تبدیلی واقع ہوئی ہے، جس نے اس کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو بٹ کوائن کی طرف راغب کیا ہے کیونکہ یہ ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر ابھرا ہے۔ مارکیٹ میں اس تبدیلی کا فوری اثر یہ ہوا کہ بٹ کوائن کی قیمتوں میں استحکام اور اضافہ دیکھا گیا، جبکہ دیگر روایتی اثاثے کمزور پڑ گئے۔ آئندہ کے لیے یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر عالمی مالیاتی بے یقینی برقرار رہی تو بٹ کوائن کی مقبولیت مزید بڑھے گی، تاہم مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے خطرات بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، بٹ کوائن کے لیے ای ٹی ایف اور دیگر حکمت عملیوں کی منظوری یا ان میں تبدیلیاں مستقبل میں اس کی قیمت اور قبولیت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk