عالمی مالیاتی منڈیوں میں بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو اب 74 ہزار ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تیل کی قیمت بھی 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کوائن مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں بھی اضافہ ہوا ہے اور یہ اب 2.49 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ بٹ کوائن نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 4.85 فیصد کا اضافہ کیا ہے، جبکہ دیگر بڑی کرپٹو کرنسیاں مخلوط رجحان دکھا رہی ہیں۔ ماہرین اقتصادیات نے امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں تیزی سے کمی کی توقع ظاہر کی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں جوش پایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب نے اپنی تیل کی پیداوار میں کمی کی ہے، جو عالمی تیل کی سپلائی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بھی بڑھ رہی ہے، خاص طور پر جب یوروزون بانڈ کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی معاشی حالات میں تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں، جو کرپٹو کرنسیز کی قیمتوں پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance