بٹ کوائن کی قیمت حال ہی میں 70,000 ڈالر سے اوپر مستحکم رہی ہے، تاہم اس کی آئندہ سمت کا انحصار ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات پر ہے۔ حالیہ دنوں میں کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، خاص طور پر جب سابق امریکی صدر نے پانچ دن کے لیے سیاسی سرگرمیوں میں وقفہ لینے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد کرپٹو کرنسیاں عموماً مثبت ردعمل کا مظاہرہ کرنے لگیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کم ہوئی تو کرپٹو مارکیٹ میں استحکام اور اضافہ ممکن ہے، ورنہ حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ یہ مذاکرات عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے اہم ہیں کیونکہ ان کے نتائج عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال پر نظر رکھیں کیونکہ مستقبل میں ممکنہ سیاسی تبدیلیاں کرپٹو کرنسی کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk