بھوٹان نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران اپنے بٹ کوائن کے ذخائر میں نمایاں کمی کی ہے، جو اکتوبر 2024 سے 13,000 بٹ کوائن سے کم ہو کر 3,954 بٹ کوائن تک پہنچ گئے ہیں۔ اس عرصے میں تقریباً 215.7 ملین ڈالر مالیت کے بٹ کوائنز فروخت کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، ملک کی جانب سے بٹ کوائن مائننگ میں بھی کمی دیکھی گئی ہے، کیونکہ گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے میں 100,000 ڈالر سے زائد کی کوئی مائننگ آمدنی ریکارڈ نہیں ہوئی۔ یہ تبدیلیاں بٹ کوائن مارکیٹ اور متعلقہ سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہیں کیونکہ بھوٹان کی جانب سے بڑے پیمانے پر فروخت اور مائننگ کی کمی مارکیٹ میں اثر ڈال سکتی ہے۔ مستقبل میں، اگر بھوٹان نے مائننگ مکمل طور پر بند کر دی تو اس سے عالمی بٹ کوائن مائننگ کی طاقت پر اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ صورتحال عالمی کرپٹو مارکیٹ میں استحکام یا اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو بٹ کوائن مائننگ اور سرمایہ کاری میں فعال ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk