آسٹریلیا میں مارچ کے مہینے کے دوران TD-MI مہنگائی انڈیکس میں سالانہ بنیادوں پر چار اعشاریہ تین فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ شرح پچھلے ریکارڈ شدہ تین اعشاریہ ساٹھ فیصد سے بڑھ کر مہنگائی کے دباؤ میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ملک کی معیشت پر اثرات مرتب کیے ہیں اور اس کے باعث مرکزی بینک کی مستقبل کی مالیاتی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہونے کا امکان ہے۔ مہنگائی کی اس رفتار سے صارفین کی خریداری کی طاقت متاثر ہو سکتی ہے اور سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مرکزی بینک کو شرح سود میں تبدیلی کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے تاکہ معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔ اس صورتحال میں صارفین اور کاروباری اداروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ممکنہ مالیاتی چیلنجز کا سامنا کر سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance