ویتنام کی وزارت تجارت نے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں رکاوٹوں کے پیش نظر جاپان اور جنوبی کوریا سے تعاون کی درخواست کی ہے۔ یہ اقدام ایران میں جاری تنازع کی وجہ سے تیل کی سپلائی چینز میں خلل کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ ویتنام کے دو ریفائنریز ملک کی تقریباً 70 فیصد ایندھن کی ضروریات پوری کرتے ہیں، جن میں زیادہ تر خام تیل مشرق وسطیٰ سے آتا ہے۔ حکومت کے کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق، ویتنام نے گزشتہ سال 14.2 ملین ٹن خام تیل درآمد کیا جو پچھلے سال کے مقابلے میں 5.3 فیصد زیادہ ہے۔ اس درخواست کا مقصد توانائی کی سیکیورٹی کو مضبوط بنانا اور ممکنہ سپلائی خلل سے بچاؤ کرنا ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا کی جانب سے تعاون کی صورت میں ویتنام کی توانائی کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے گا، جس سے ملک کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم، خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال توانائی کی فراہمی میں مزید چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance