ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے ایک ہزار سے زائد سنی علماء نے مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنا تیسرا رہنما تسلیم کرتے ہوئے ان سے وفاداری کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی کے ذریعے سامنے آیا ہے جو خطے میں ایک اہم سیاسی اتحاد کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اقدام سے مجتبیٰ خامنہ ای کی مذہبی اور سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ متوقع ہے، جو ایران کی داخلی سیاست پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس وفاداری کے اعلان سے علاقائی سیاسی توازن میں تبدیلی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر ردعمل متوقع ہے۔ مستقبل میں اس اتحاد کے سیاسی اور سماجی اثرات پر نظر رکھی جائے گی تاکہ خطے کی صورتحال کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance