پاکستان کا Virtual Assets Act 2026 – جائزہ

Virtual Assets Act

ڈیجیٹل دور میں کرپٹو کرنسیوں اور ڈیجیٹل اثاثوں نے پوری دنیا کے مالی نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ 2009ء میں بٹ کوائن کی ایجاد کے بعد متعدد ممالک نے ڈیجیٹل اثاثوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں بحث شروع کی۔ پاکستان میں اس شعبے کا آغاز مبہم رہنے کی شکل میں ہوا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ حکومت نے اسے منظم کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ اسی تناظر میں Virtual Assets Ordinance 2025 (جسے بعد میں Virtual Assets Act 2026 کے نام سے جانا جاتا ہے) سامنے آیا۔

اس قانون نے پہلی بار پاکستان میں کرپٹو اور دیگر ورچوئل اثاثوں کو جامع ضابطے کے تحت لانے کا اہتمام کیا۔ قانون کا مقصد سرمایہ کاروں کا تحفظ، منی لانڈرنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور جدت کی حوصلہ افزائی ہے۔

بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں اور ایسٹس سے متعلق پاکستان میں حال ہی میں پاس ہونے والے اس Virtual Assets Act کا مطلب کیا ہے؟ ہم اس مضمون میں تفصیل سے اس قانون کے تمام پہلوؤں، لائسنسنگ کے نظام، ممنوعہ خدمات اور مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔

پس منظر اور قانون سازی کی ضرورت

پاکستان میں 2015ء کے بعد کرپٹو کرنسی کی تجارت غیر واضح اور قانونی مبہم صورتحال کا شکار رہی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پہلے کرپٹو پر احتیاطی انتباہ جاری کیا تھا اور بینکوں کو اس کے استعمال کرنے یا معاونت کرنے سے روکا تھا۔ لیکن اس کے باوجود اس کا معاملہ مشتبہ ہی رہا۔

بین الاقوامی مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی سفارشات کے تحت پاکستان کو مالیاتی نظام کو شفاف بنانے اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے قوانین بنانے کا دباؤ تھا۔ اسی لیے حکومت نے Virtual Assets Ordinance 2025 کے ذریعے کرپٹو سیکٹر کو باقاعدہ بنایا۔ عرب نیوز کے مطابق پارلیمان نے بل منظور کیا اور Pakistan Virtual Asset Regulatory Authority (PVARA) قائم کی جو منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

قانون سازی کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل اثاثوں کو باضابطہ فریم ورک میں لا کر سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کی سالمیت کا تحفظ ہے۔

ورچوئل اثاثہ کیا ہے؟

قانون میں ‘‘ورچوئل اثاثہ’’ کی جامع تعریف دی گئی ہے۔ یہ ایسی ڈیجیٹل نمائندگی ہے جو قدر کے طور پر استعمال ہو سکے، ادائیگی یا سرمایہ کاری کے مقصد سے ٹرانسفر یا ذخیرہ کی جا سکے، اور بلاک چین یا کسی اور ڈیجیٹل لیجر پر وجود رکھے۔ کریپٹو کرنسی، ٹوکن، اسمارٹ کانٹریکٹ پر مبنی سکیورٹیز اور سٹیبل کوائنز سب اس تعریف میں شامل ہیں۔

قانون نے چند چیزوں کو واضح طور پر اس سے خارج کیا ہے: (الف) سرکاری قانونی ٹینڈر یعنی پاکستانی روپیہ (PKR)؛ (ب) مرکزی بینک کی جاری کردہ ڈیجیٹل کرنسی (CBDC)؛ (ج) ایسے ڈیجیٹل ٹوکن جو صرف کسی محدود ایکو سسٹم میں استعمال کیے جا سکتے ہیں (مثلاً لائلٹی پوائنٹس)؛ (د) ایسے نان فنجیبل ٹوکن (NFTs) جو صرف کولیکٹیبل یا یادگار کے طور پر ہیں۔ ان چیزوں پر Virtual Assets Act کا اطلاق نہیں ہوگا۔

قانون نے ‘‘substance over form’’ کا اصول اپنایا ہے، یعنی اگر کوئی اثاثہ بظاہر کسی اور نام سے پیش کیا جائے مگر عملی طور پر کرپٹو یا ڈیجیٹل سکیورٹی جیسا کردار رکھتا ہو تو اسے اس قانون کے تحت سمجھا جائے گا۔ مزید یہ کہ اس قانون کی خارجہ قوت ہے؛ اگر کوئی پاکستانی رہائشی بیرون ملک بیٹھ کر پاکستانی صارفین کو ورچوئل اثاثے کی خدمات فراہم کرے تو اسے بھی پاکستان کے قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔

Pakistan Virtual Asset Regulatory Authority (PVARA)

Virtual Assets Act نے ایک مستقل ریگولیٹری ادارہ PVARA قائم کیا جو ورچوئل اثاثوں کے شعبے کی نگرانی کرے گا۔ BlockEden کی رپورٹ کے مطابق اس اتھارٹی کے بورڈ میں سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری قانون، اسٹیٹ بینک کے گورنر، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے چیئرمین، نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ/کاؤنٹر فنانسنگ آف ٹیررزم اتھارٹی کے چیئرمین اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے چیئرمین شامل ہیں۔

اتھارٹی کا کام لائسنس جاری کرنا، مارکیٹ مانیٹرنگ، AML/CFT معیارات نافذ کرنا، اور سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ ہے۔ PVARA کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں جن میں لائسنس منسوخ کرنے، جرمانے کرنے، معائنہ اور تفتیش کا حق شامل ہے۔

تاہم کچھ قانونی ماہرین نے اس کے اختیارات پر تنقید کی ہے۔ ‘‘Courting The Law’’ میں شائع ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ اتھارٹی کو ‘‘وسیع صوابدیدی اختیارات’’ دیے گئے ہیں اور عدالتوں کی نگرانی محدود کر دی گئی ہے، جس سے انتظامی قانون کے اصولوں اور بنیادی حقوق پر سوال اٹھتے ہیں۔ علاوہ ازیں، قانون نے ایک Virtual Assets Appellate Tribunal قائم کیا ہے جو اتھارٹی کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں سنے گا، اور عدالتوں کی عموماً اس معاملے میں مداخلت نہیں ہوگی۔

لائسنسنگ کا نظام: کن خدمات کو لائسنس لینا لازمی ہے؟

پاکستان کے Virtual Assets Act 2026 میں ورچوئل اثاثوں کے شعبے کو منظم کرنے کے لیے ایک واضح لائسنسنگ نظام قائم کیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت ہر وہ فرد، کمپنی یا ادارہ جو ورچوئل اثاثوں سے متعلق مخصوص مالی یا تجارتی خدمات فراہم کرنا چاہتا ہے، اسے Pakistan Virtual Asset Regulatory Authority (PVARA) سے لائسنس حاصل کرنا ضروری ہے۔

قانون میں ان خدمات کی ایک باقاعدہ فہرست دی گئی ہے جنہیں Virtual Asset Services کہا گیا ہے۔ ان خدمات کی تعداد دس ہے اور ہر خدمت کی تفصیل بھی قانون کے متن میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مارکیٹ میں کام کرنے والے اداروں کی سرگرمیاں واضح ہوں، سرمایہ کاروں کا تحفظ ہو اور کسی بھی غیر قانونی یا دھوکہ دہی پر مبنی سرگرمی کو روکا جا سکے۔

1. ایڈوائزری سروسز (Advisory Services)

قانون کے مطابق ایڈوائزری سروسز سے مراد ایسی خدمات ہیں جن میں کسی پیشہ ور ادارے یا فرد کی جانب سے کسی مخصوص صارف کو ورچوئل اثاثوں سے متعلق ذاتی نوعیت کی سرمایہ کاری کی سفارشات فراہم کی جائیں۔ یہ سفارشات یا تو صارف کی درخواست پر دی جا سکتی ہیں یا پھر خود سروس فراہم کرنے والے کی طرف سے بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ اس تعریف میں “personalised recommendations” کا تصور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

اس سے مراد وہ مشورے ہیں جو کسی خاص صارف کے لیے تیار کیے گئے ہوں اور جن میں اس کی مالی صورتحال، سرمایہ کاری کے اہداف، خطرے کی برداشت، یا دیگر ذاتی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہو۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص یا کمپنی کسی صارف کو یہ مشورہ دیتی ہے کہ اس کی مالی حالت اور خطرہ برداشت کرنے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اسے بٹ کوائن، ایتھیریم یا کسی مخصوص ٹوکن میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، تو یہ ایڈوائزری سروس شمار ہوگی۔

اسی طرح اگر کوئی ادارہ کسی صارف کا کرپٹو پورٹ فولیو مینجمنٹ کرتا ہے اور اسے باقاعدہ سرمایہ کاری کی حکمت عملی فراہم کرتا ہے تو یہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ تاہم قانون واضح کرتا ہے کہ عام مارکیٹ رپورٹس، عمومی تحقیق یا غیر ذاتی نوعیت کی معلومات، جیسے کہ بلاگ آرٹیکل یا عمومی تجزیہ، ایڈوائزری سروس نہیں سمجھی جائیں گی کیونکہ ان میں کسی مخصوص صارف کی مالی صورتحال کو مدنظر نہیں رکھا جاتا۔

2. بروکر ڈیلر سروسز (Broker-Dealer Services)

بروکر ڈیلر سروسز وہ خدمات ہیں جن میں کوئی ادارہ یا کمپنی ورچوئل اثاثوں کی خرید و فروخت میں ثالثی کا کردار ادا کرتی ہے یا خود اس تجارت میں شامل ہوتی ہے۔ قانون کے مطابق یہ خدمات کئی مختلف شکلوں میں ہو سکتی ہیں۔ ان میں سب سے عام صورت یہ ہے کہ کوئی پلیٹ فارم خریدار اور فروخت کنندہ کو آپس میں ملاتا ہے اور ان کے درمیان آرڈر کی تکمیل کا انتظام کرتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی کمپنی صارفین کے آرڈرز جمع کرتی ہے اور انہیں مارکیٹ میں کسی دوسرے صارف کے آرڈر سے میچ کر دیتی ہے تو یہ بروکر ڈیلر سروس ہوگی۔ اسی طرح اگر کوئی ادارہ صارفین سے آرڈر قبول کرتا ہے اور اس کے بدلے میں فیاٹ کرنسی یا ورچوئل اثاثے وصول کرتا ہے تو یہ بھی اسی زمرے میں شامل ہوگا۔

بعض اوقات کمپنیاں اپنے ہی اکاؤنٹ پر کرپٹو اثاثوں کی تجارت کرتی ہیں، جسے proprietary trading کہا جاتا ہے؛ قانون کے مطابق یہ بھی بروکر ڈیلر سروس میں شامل ہو سکتا ہے۔ مزید برآں اگر کوئی ادارہ صارفین کے اثاثوں کو استعمال کرتے ہوئے مارکیٹ میں market-making کرے یا کسی نئے ٹوکن کے اجرا کے لیے بطور درمیانی ادارہ اس کی تقسیم یا فروخت کا انتظام کرے تو وہ بھی اسی کیٹیگری میں آئے گا۔

تاہم قانون ایک اہم استثنا بھی دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص صرف اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر کرپٹو کی تجارت کرتا ہے اور نہ تو صارفین کے آرڈر پر عمل کرتا ہے اور نہ ہی ان کے اثاثے اپنے پاس رکھتا ہے، تو اسے بروکر ڈیلر سروس فراہم کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا۔

3. کسٹڈی اور ایڈمنسٹریشن سروسز (Custody and Administration Services)

یہ خدمات اس وقت فراہم ہوتی ہیں جب کوئی کمپنی یا ادارہ صارفین کے ورچوئل اثاثوں کو محفوظ رکھنے یا ان کا انتظام کرنے کی ذمہ داری لیتا ہے۔ اس میں دو بنیادی صورتیں شامل ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ کمپنی براہ راست صارف کے کرپٹو اثاثے اپنے کنٹرول میں رکھتی ہے، جیسے کہ ایک کسٹوڈیئل والٹ سروس۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کمپنی صارف کی پرائیویٹ کرپٹوگرافک کیز یا ان تک رسائی کے ذرائع کو اپنے پاس محفوظ رکھتی ہے جس کی مدد سے صارف اپنے اثاثوں کو منتقل یا استعمال کر سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی پلیٹ فارم صارفین کو ایسا والٹ فراہم کرتا ہے جس میں ان کی نجی چابیاں پلیٹ فارم کے کنٹرول میں ہوں، تو اسے کسٹڈی سروس سمجھا جائے گا اور اس کے لیے لائسنس ضروری ہوگا۔ البتہ اگر کوئی کمپنی صرف ایسا سافٹ ویئر یا ہارڈویئر فراہم کرے جس میں صارف خود اپنی نجی چابیاں کنٹرول کرتا ہو (جیسے self-custody wallet)، تو یہ اس تعریف میں شامل نہیں ہوگا کیونکہ کمپنی کو صارف کے اثاثوں تک براہ راست رسائی حاصل نہیں ہوتی۔

4. ایکسچینج سروسز (Exchange Services)

ایکسچینج سروسز سے مراد وہ تمام سرگرمیاں ہیں جن میں ورچوئل اثاثوں کو ایک دوسرے کے ساتھ یا فیاٹ کرنسی کے ساتھ تبدیل کیا جاتا ہے۔ قانون کے مطابق اس میں چار بنیادی قسم کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ پہلی یہ کہ کسی ورچوئل اثاثے کو فیاٹ کرنسی کے بدلے تبدیل کیا جائے، جیسے کہ بٹ کوائن کو پاکستانی روپے یا امریکی ڈالر کے بدلے فروخت کرنا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک ورچوئل اثاثے کو دوسرے ورچوئل اثاثے سے تبدیل کیا جائے، جیسے کہ بٹ کوائن کو ایتھیریم سے تبدیل کرنا۔

تیسری صورت میں ایکسچینج پلیٹ فارم خریدار اور فروخت کنندہ کے آرڈرز کو آپس میں میچ کرتا ہے اور لین دین کو مکمل کرتا ہے۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ پلیٹ فارم ایک آرڈر بک برقرار رکھتا ہے جس میں صارفین کے خرید اور فروخت کے آرڈرز درج ہوتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر ٹریڈنگ ہوتی ہے۔ ایسے تمام پلیٹ فارمز کو قانون کے تحت لائسنس حاصل کرنا ضروری ہے۔

5. لینڈنگ اور بوروئنگ سروسز (Lending and Borrowing Services)

یہ وہ خدمات ہیں جن میں ورچوئل اثاثوں کو قرض کے طور پر فراہم کیا جاتا ہے یا قرض کے طور پر حاصل کیا جاتا ہے۔ قانون کے مطابق اگر کوئی پلیٹ فارم ایسے معاہدوں کا انتظام کرتا ہے جن میں ایک یا زیادہ قرض دہندگان اپنے ورچوئل اثاثے کسی دوسرے شخص کو عارضی طور پر دیتے ہیں اور اس کے بدلے وہ شخص مستقبل میں اسی مقدار کے اثاثے اور ممکنہ طور پر اضافی منافع یا فیس واپس کرنے کا پابند ہوتا ہے، تو یہ لینڈنگ یا بوروئنگ سروس شمار ہوگی۔

یہ خدمات عموماً DeFi یا CeFi پلیٹ فارمز کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں جہاں صارف اپنے کرپٹو اثاثے قرض کے طور پر فراہم کر کے منافع حاصل کرتے ہیں یا انہیں بطور ضمانت استعمال کر کے قرض لیتے ہیں۔ ایسے تمام پلیٹ فارمز کو قانون کے تحت لائسنس لینا ہوگا کیونکہ ان میں مالی خطرات اور صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کا معاملہ شامل ہوتا ہے۔

6. ورچوئل اثاثہ ڈیریویٹوز سروسز (Virtual Asset Derivatives Services)

اس کیٹیگری میں وہ تمام خدمات شامل ہیں جو کرپٹو اثاثوں پر مبنی مشتق مالیاتی آلات کی تجارت یا انتظام سے متعلق ہوں۔ اس میں فیوچرز کنٹریکٹس، آپشنز، سواپس، کنٹریکٹس فار ڈیفرنس (CFD) اور دیگر اسی نوعیت کے مالیاتی آلات شامل ہوتے ہیں۔ ان معاہدوں میں بنیادی اثاثہ براہ راست کرپٹو کرنسی نہیں بلکہ اس کی قیمت پر مبنی معاہدہ ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی پلیٹ فارم بٹ کوائن فیوچر کنٹریکٹس کی تجارت کی سہولت فراہم کرتا ہے جہاں سرمایہ کار مستقبل کی قیمت پر شرط لگاتے ہیں، تو یہ ڈیریویٹوز سروس کے زمرے میں آئے گا۔ اس طرح کے مالیاتی آلات پیچیدہ اور زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں، اس لیے قانون کے تحت ان پر سخت ریگولیشن اور لائسنسنگ لازمی قرار دی گئی ہے۔

7. ورچوئل اثاثہ مینجمنٹ اور سرمایہ کاری خدمات (Virtual Asset Management and Investment Services)

یہ خدمات اس وقت فراہم ہوتی ہیں جب کوئی ادارہ کسی دوسرے شخص کے ورچوئل اثاثوں کو امانت دار یا نمائندہ حیثیت میں سنبھالتا ہے اور ان کا انتظام کرتا ہے۔ اس میں عام طور پر دو بڑی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔ پہلی سرگرمی پورٹ فولیو یا ڈسکریشنری سرمایہ کاری مینجمنٹ ہے، جس میں کوئی ادارہ صارف کی طرف سے کرپٹو اثاثوں کی خرید و فروخت کے فیصلے خود کرتا ہے۔

دوسری سرگرمی اسٹیکنگ سروس ہے۔ اس میں کمپنی صارفین کے اثاثوں کو بلاک چین نیٹ ورک میں اسٹیک کر کے نیٹ ورک کے validator rewards حاصل کرتی ہے اور انہیں صارف کے ساتھ شیئر کرتی ہے۔ اگر یہ staking خدمات صارف کے پورٹ فولیو مینجمنٹ کے حصے کے طور پر فراہم کی جائیں تو یہ بھی اسی کیٹیگری میں آتی ہیں۔

8. ورچوئل اثاثہ ٹرانسفر اور سیٹلمنٹ سروسز (Virtual Asset Transfer and Settlement Services)

یہ خدمات اس وقت فراہم ہوتی ہیں جب کوئی ادارہ صارفین کی طرف سے ورچوئل اثاثوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے یا کسی لین دین کی حتمی تصدیق اور سیٹلمنٹ کا انتظام کرتا ہے۔ اس میں کسی والٹ، ایڈریس یا اکاؤنٹ سے دوسرے والٹ یا ایڈریس میں کرپٹو اثاثوں کی منتقلی شامل ہوتی ہے۔ اگر کوئی کمپنی یہ خدمات صارفین کی طرف سے فراہم کرتی ہے تو اسے لائسنس درکار ہوگا۔

9. ورچوئل اثاثوں کا اجرا (Virtual Asset Issuance Services)

اس زمرے میں وہ تمام سرگرمیاں شامل ہیں جن میں نئے ورچوئل اثاثے تخلیق کیے جاتے ہیں یا انہیں عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں ٹوکن کی تخلیق، ابتدائی فروخت (ICO یا IVAO)، سپلائی کا کنٹرول، ریزرو مینجمنٹ، ٹوکن کی ریڈیمپشن اور گورننس جیسے معاملات شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ جاری کنندہ کو سرمایہ کاروں کے لیے ضروری معلومات فراہم کرنا بھی لازم ہوتا ہے۔ اس لیے اس طرح کی سرگرمیوں کو سخت ریگولیٹری نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

10. مائننگ سے متعلق خدمات (Mining-related Virtual Asset Services)

قانون کے مطابق اگر کوئی مائننگ آپریشن اپنی مائننگ صلاحیت کو تیسرے فریق کو بطور سروس فراہم کرتا ہے یا صارفین کے فنڈز یا اثاثوں کے ساتھ مائننگ کی سرگرمی کرتا ہے تو اسے لائسنس لینا ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کمپنی کلاؤڈ مائننگ سروس فراہم کرتی ہے جہاں صارف فیس ادا کر کے مائننگ ہیش پاور خریدتے ہیں تو یہ اس کیٹیگری میں آئے گا۔

البتہ قانون یہ واضح کرتا ہے کہ اگر کوئی فرد یا کمپنی صرف اپنے ذاتی اکاؤنٹ کے لیے مائننگ کرے اور کسی دوسرے شخص کے فنڈز یا اثاثے استعمال نہ کرے تو اسے لائسنس لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

قانون نے واضح کیا کہ self‑custody wallet سافٹ ویئر بنانا یا فراہم کرنا، اگر صارف خود اپنی ذمے داری پر اپنی نجی چابیاں رکھتا ہو، اس پر لائسنس کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح خالص مائننگ (یعنی اگر کوئی فرد یا کمپنی صرف اپنے لیے بلاک چین مائننگ کرے اور کسی دوسرے کا ہیش پاور استعمال نہ کرے) پر لائسنس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ البتہ اگر مائننگ کی خدمات بطور بزنس فراہم کی جائیں تو لائسنس لینا ضروری ہے۔

لائسنسنگ کا عمل

لائسنس دو مرحلوں میں ملتا ہے: سب سے پہلے Preliminary No Objection Certificate (NOC) جاری ہوتا ہے۔ اس کے بعد درخواست گزار کو مکمل لائسنس ملنے سے پہلے اپنی کمپنی کی ساخت، مالی وسائل، خطرے کے انتظام، معلوماتی نظام اور داخلی کنٹرول سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنی ہوتی ہیں۔

BlockEden کی رپورٹ کے مطابق اس مرحلے کو تین فیز سے تعبیر کیا گیا ہے: (1) ابتدائی این او سی حاصل کرنا؛ (2) SECP کے ساتھ کمپنی کی رجسٹریشن اور پاکستان میں جسمانی موجودگی قائم کرنا؛ (3) آپریشنل آڈٹ کے بعد حتمی لائسنس حاصل کرنا۔ اس عمل میں fit-and-proper معیار پر پورا اترنا بھی شامل ہے، یعنی کمپنی کے مالکان، ڈائریکٹرز اور اعلیٰ افسران کے لیے صاف کردار، مالی استحکام اور کافی تکنیکی علم ضروری ہے۔

AML/KYC اور کمپلائنس

قانون کے تحت تمام لائسنس یافتہ اداروں پر اینٹی منی لانڈرنگ (AML) اور Know Your Customer (KYC) کی ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔ انہیں صارف کی شناخت جانچنا، مشتبہ ٹرانزیکشنز کی نگرانی کرنا، ‘‘Travel Rule’’ کے تحت ٹرانزیکشن کے اصل بھیجنے والے اور وصول کنندہ کی معلومات کا ریکارڈ رکھنا، اور کم از کم سات سال تک تمام ریکارڈز محفوظ کرنا لازم ہے۔ یہ قواعد FATF کے معیارات کے مطابق ہیں اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت پر قابو پانے کیلئے ضروری ہیں۔

ممنوعہ خدمات اور پابندیاں

Virtual Assets Act 2026 میں ورچوئل اثاثوں کے شعبے کو منظم رکھنے کے لیے چند بنیادی سرگرمیوں کو واضح طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔چونکہ ورچوئل اثاثوں کی مارکیٹ نسبتاً نئی اور تیزی سے بدلنے والی ہے، اس لیے قانون سازوں نے چند بنیادی اصول مقرر کیے ہیں تاکہ اس شعبے میں کام کرنے والے ادارے واضح قانونی دائرہ کار کے اندر رہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہے۔

اس لیے اس باب میں چار ایسی سرگرمیوں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے جو اگر غیر منظم طریقے سے ہونے لگیں تو مالیاتی نظام اور سرمایہ کار دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

1. بغیر لائسنس آپریشن

سب سے پہلی اور بنیادی پابندی بغیر لائسنس ورچوئل اثاثہ خدمات فراہم کرنے پر عائد کی گئی ہے۔ قانون کی دفعہ 50 کے مطابق کوئی بھی شخص یا ادارہ پاکستان میں یا پاکستان سے ورچوئل اثاثوں سے متعلق خدمات بطور کاروبار فراہم نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ مخصوص قانونی شرائط پوری نہ کرے۔ ان شرائط میں پہلی شرط یہ ہے کہ وہ ادارہ پاکستان میں قانونی طور پر رجسٹرڈ کمپنی ہو۔

یعنی اسے Companies Act 2017 یا پاکستان میں کمپنیوں کی رجسٹریشن سے متعلق کسی دوسرے نافذ العمل قانون کے تحت قائم کیا گیا ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اس کمپنی کے پاس Pakistan Virtual Asset Regulatory Authority (PVARA) کی طرف سے جاری کردہ باقاعدہ لائسنس موجود ہو۔

اس دفعہ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی فرد یا ادارہ اپنی مرضی سے کرپٹو ایکسچینج، ٹریڈنگ پلیٹ فارم یا دیگر مالیاتی خدمات شروع نہیں کر سکتا بلکہ اسے پہلے ریگولیٹری اتھارٹی کی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ اگر کوئی کمپنی کرپٹو ایکسچینج چلاتی ہے، کسٹوڈی سروس فراہم کرتی ہے، بروکریج یا ٹریڈنگ پلیٹ فارم چلاتی ہے، ٹوکن جاری کرتی ہے یا کسی بھی شکل میں ورچوئل اثاثوں سے متعلق مالیاتی خدمات بطور کاروبار فراہم کرتی ہے تو اسے لازماً PVARA سے لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔

2. غیر مجاز ٹوکن کا اجرا

دوسری اہم پابندی Initial Virtual Asset Offering (IVAO) سے متعلق ہے۔ قانون کی دفعہ 51 کے مطابق کوئی بھی شخص پاکستان میں یا پاکستان سے کسی ورچوئل اثاثے کی ابتدائی پیشکش نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ اس ایکٹ اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی نہ کرے۔

IVAO دراصل وہ عمل ہے جس کے ذریعے کوئی کمپنی یا بلاک چین پروجیکٹ نیا کرپٹو ٹوکن جاری کر کے سرمایہ کاروں سے سرمایہ اکٹھا کرتا ہے۔ عام طور پر اس عمل کو Initial Coin Offering (ICO) یا Token Sale بھی کہا جاتا ہے۔ اس طریقے میں سرمایہ کار ابتدائی مرحلے میں ٹوکن خریدتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں اس ٹوکن کی قیمت بڑھے گی۔

اس دفعہ کے تحت اگر کوئی کمپنی بغیر قانونی منظوری کے ٹوکن جاری کرے، سرمایہ کاروں سے فنڈز اکٹھے کرے یا یہ ظاہر کرے کہ وہ ایسا کرنے جا رہی ہے تو یہ قانون کی خلاف ورزی شمار ہوگی۔ اس پابندی کا مقصد یہ ہے کہ ٹوکن اجرا کے عمل کو شفاف بنایا جائے اور ایسے منصوبوں کو روکا جائے جو سرمایہ کاروں کو غلط معلومات دے کر سرمایہ حاصل کرتے ہیں۔

3. مارکیٹ مینپولیشن اور اندرونی معلومات کا استعمال

تیسری اہم پابندی مارکیٹ میں ہیرا پھیری اور اندرونی معلومات کے غلط استعمال سے متعلق ہے۔ قانون کی دفعہ 52 کے تحت ورچوئل اثاثوں کی مارکیٹ میں مارکیٹ مینپولیشن اور انسائیڈر ٹریڈنگ کو واضح طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس دفعہ کے مطابق کوئی بھی شخص ایسے اقدامات نہیں کر سکتا جن کے ذریعے ورچوئل اثاثوں کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر متاثر کیا جائے یا سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا جائے۔

اسی طرح قانون نے اندرونی معلومات کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس ایسی خفیہ معلومات ہوں جو عام سرمایہ کاروں کے پاس موجود نہ ہوں اور وہ ان معلومات کو استعمال کر کے خود کرپٹو ٹریڈنگ کرے یا کسی دوسرے شخص کو ٹریڈنگ کا مشورہ دے تو یہ غیر قانونی عمل شمار ہوگا۔

اسی طرح کسی شخص کو ایسی خفیہ معلومات کو غیر قانونی طور پر ظاہر کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی اگر اس سے مارکیٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔ مثال کے طور پر اگر کسی کرپٹو ایکسچینج کا ملازم یہ جانتا ہو کہ کوئی خاص ٹوکن جلد ہی اس ایکسچینج پر لسٹ ہونے والا ہے اور وہ اس معلومات کو استعمال کرتے ہوئے پہلے ہی اس ٹوکن کو خرید لے تو یہ انسائیڈر ٹریڈنگ شمار ہوگی۔

اسی طرح اگر کوئی گروپ مصنوعی طریقوں سے کسی ٹوکن کی قیمت بڑھانے یا گرانے کے لیے اجتماعی خرید و فروخت کرے، جسے عام طور پر pump and dump کہا جاتا ہے، تو یہ بھی مارکیٹ مینپولیشن میں شامل ہوگا۔ قانون کے مطابق PVARA کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے رویوں کی مزید وضاحت کے لیے اضافی ضابطے اور رہنما اصول جاری کرے تاکہ مارکیٹ میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔

4. الگورتھمک اسٹیبل کوائنز

چوتھی پابندی الگورتھمک ٹوکن سے متعلق ہے۔ قانون کی دفعہ 53 کے مطابق ایسے ورچوئل اثاثوں کے اجرا، فروخت یا تشہیر پر پابندی عائد کی گئی ہے جن کی قیمت برقرار رکھنے کا بنیادی طریقہ صرف الگورتھمک نظام ہو اور جن کے پیچھے مناسب یا مکمل مالی ضمانت موجود نہ ہو۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی ٹوکن کی قیمت صرف کسی کمپیوٹر الگورتھم کے ذریعے مستحکم رکھنے کی کوشش کی جائے اور اس کے پیچھے کوئی حقیقی اثاثہ، ریزرو یا مکمل کولیٹرل موجود نہ ہو تو اسے عام طور پر جاری نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم قانون یہ امکان بھی چھوڑتا ہے کہ اگر مستقبل میں ریگولیٹری قواعد کے ذریعے ایسے ٹوکن کی اجازت دی جائے اور ان کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات مقرر کیے جائیں تو انہیں محدود دائرے میں اجازت دی جا سکتی ہے۔

انیشل ورچوئل اثاثہ آفرنگ (IVAO) اور ٹوکن جاری کرنا

ICO یا IVAO کے ذریعے ٹوکن جاری کرنے کے لیے سخت قواعد مقرر کیے گئے ہیں۔ جاری کنندہ کو PVARA سے منظوری لینا، مکمل whitepaper جاری کرنا، استعمال کی تفصیلات، خطرات، فنڈز کے استعمال کا منصوبہ اور قانونی حیثیت وضاحت سے بیان کرنا ضروری ہے۔ سرمایہ کاروں کی حفاظت کیلئے چیرہ دستیوں اور غلط بیانی پر سخت سزا رکھی گئی ہے۔ یہ اقدامات ‘‘pump & dump’’ سکیموں، جھوٹے وعدوں اور بغیر بیکنگ والے ٹوکن کے اجرا کو روکنے کے لیے ہیں۔

ریگولیٹری سینڈباکس اور جدت کی حوصلہ افزائی

قانون میں ‘‘ریگولیٹری سینڈباکس’’ کا تصور شامل کیا گیا ہے جہاں نئی کمپنیوں کو محدود دائرہ میں اپنی مصنوعات اور خدمات آزمانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس سینڈباکس میں کمپنیوں کو کچھ پابندیوں میں نرمی دی جاتی ہے تاکہ وہ ٹیکنالوجی اور بزنس ماڈل کو بہتر بنا سکیں۔ اس سے جدت کی حوصلہ افزائی ہوگی اور نئے آئیڈیاز عملی طور پر پرکھے جا سکیں گے۔

کاروباری اور صارفین پر اثرات

Virtual Assets Act 2026 کے نفاذ سے پاکستان میں کرپٹو ایکو سسٹم میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ ایک طرف، مارکیٹ میں وضاحت اور قانونی حیثیت آئے گی جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔ دوسری طرف، لائسنسنگ اور AML تقاضے چھوٹے پلیئرز کیلئے داخلے کی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

صارفین کیلئے فوائد

  1. سرمایہ کاروں کا تحفظ: واضح ضابطوں، لازمی لائسنس اور مارکیٹ سرویلنس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو دھوکہ دہی سے بچاؤ ملے گا۔

  2. شفافیت: تمام لائسنس یافتہ کمپنیوں پر فیس، رسک اور ٹرانزیکشن کی تفصیلات واضح کرنے کی ذمہ داری ہے، جس سے صارف بہتر فیصلے کر سکیں گے۔

  3. قانونی مقام: پہلے کرپٹو پر پابندیوں کے باعث سکیورٹی اور ادائیگی کے مسائل تھے، اب قانونی حیثیت ملنے سے بینک اور مالیاتی ادارے بھی اس شعبے میں قدم رکھ سکتے ہیں۔

کاروبار کیلئے چیلنجز

  1. لائسنس کی لاگت اور کمپلائنس: لائسنس لینے اور AML/KYC معیارات پر پورا اترنے میں مالی اور تکنیکی وسائل درکار ہیں، جس سے چھوٹے کاروبار پیچھے رہ سکتے ہیں۔

  2. مسابقت: علاقائی سطح پر بھارت اور بنگلہ دیش نے بھی کرپٹو ریگولیشنز متعارف کرائے ہیں؛ پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ دوست سرمایہ کاری کا ماحول بنائے ورنہ ٹیلنٹ اور سرمایہ بیرون ملک جا سکتا ہے۔

  3. اختراعات پر اثر: کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ سخت قوانین جدت کو سست کر سکتے ہیں؛ تاہم ریگولیٹری سینڈباکس اس کا حل پیش کرتا ہے۔

قانونی چیلنجز اور تنقید

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، قانون نے PVARA کو وسیع اختیارات دیے ہیں۔ بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے عدالتی نگرانی کم ہو کر رہ گئی ہے اور اتھارٹی کے فیصلوں پر موثر اپیل کا حق محدود ہو گیا ہے۔ حکومت نے اپیل کیلئے Virtual Assets Appellate Tribunal قائم کیا ہے، مگر عام عدالتوں میں دائرہ اختیار نہ ہونا ایک تشویش کا پہلو ہے۔

ایک اور نکتہ یہ ہے کہ ورچوئل اثاثوں کی نوعیت مسلسل بدل رہی ہے۔ قانون میں تعریفیں خاصی وسیع رکھی گئی ہیں مگر بعض ماہرین کو خدشہ ہے کہ ‘‘substance over form’’ کے اصول کو سخت نافذ کرنے سے نئی ٹیکنالوجیز کو بلا وجہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ extraterritorial دائرہ اختیار کو نافذ کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر معاہدوں کی ضرورت پڑے گی۔

مستقبل کی سمتیں اور حکومتی منصوبے

حکومت نے Virtual Assets Act کے نفاذ کے بعد چند مزید منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جن میں central bank digital currency (CBDC) کی پائلٹ سکیم، کرپٹو مائننگ کے لیے اضافی بجلی کا استعمال، بلاک چین ایکو سسٹم کی ترقی، اور حقیقی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن شامل ہیں۔ PVARA بھی آئندہ سالوں میں لائسنس کی اقسام اور سرٹیفیکیشن کے عمل کو مزید بہتر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ عالمی معیارات پر پورا اترا جا سکے۔

Virtual Assets Act کا خلاصہ

Virtual Assets Act 2026 پاکستان میں کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کیلئے ایک جامع قانونی فریم ورک متعارف کراتا ہے۔ یہ قانون سرمایہ کاروں کو تحفظ دینے، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور جدت کی حوصلہ افزائی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ قانون نے وسیع تعریفیں، سخت AML/KYC معیارات، شریعت کی مطابقت، لائسنسنگ کے جامع مراحل اور ممنوعہ خدمات کی واضح فہرست دی ہے۔

اس سے پاکستان عالمی کرپٹو ریگولیٹری منظرنامے میں اپنا مقام مضبوط کر سکتا ہے۔ تاہم وسیع اختیارات اور عدالتوں کی محدود نگرانی جیسی تنقیدیں بھی موجود ہیں۔ مستقبل میں قانون کا نفاذ، اپیل کا نظام اور مارکیٹ کی عملی صورتحال اس کی کامیابی کا تعین کریں گے۔