امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران تنازع کے جلد خاتمے کے اشارے کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس پیش رفت نے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں ہلچل مچا دی ہے جہاں سرمایہ کار اس حوالے سے محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اگرچہ ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے، لیکن یہ کمی محدود رہنے کا امکان ہے کیونکہ خلیج فارس میں ہرمز کی تنگی کے دوبارہ کھلنے اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیداوار کی بحالی کے حوالے سے ابھی واضح خبریں نہیں آئیں۔ ان عوامل کا اثر عالمی تیل کی فراہمی اور توانائی کی قیمتوں پر پڑے گا، جو عالمی معیشت کے لیے اہم ہیں۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب ان پیش رفتوں پر مرکوز ہیں تاکہ وہ مستقبل کی حکمت عملی طے کر سکیں۔ اگر تنازع میں واقعی کوئی جنگ بندی ہوتی ہے تو اس سے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں استحکام آ سکتا ہے، تاہم اس وقت صورتحال غیر یقینی ہے اور محتاط اندازے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance