مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے پر جی 7 اور آئی ای اے کا اجلاس

Crypto-urdu News

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) اور گروپ آف سیون (جی 7) کے مالیاتی وزراء نے ایک آن لائن اجلاس میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ پر تبادلہ خیال کیا۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی تیل کی مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث جی 7 نے مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات پر غور کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانس کے مالیاتی وزیر نے اجلاس کے بعد بتایا کہ جی 7 نے فی الحال تیل کے ذخائر جاری کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، لیکن ضرورت پڑنے پر یہ آپشن زیر غور ہوگا۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یورپ یا امریکہ میں موجودہ وقت میں تیل کی فراہمی میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

جاپان کی مالیاتی وزیر نے بتایا کہ آئی ای اے نے ہنگامی تیل کے ذخائر کو مربوط طریقے سے جاری کرنے کی درخواست کی ہے اور جی 7 نے توانائی کی مارکیٹ کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے اور عالمی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس اجلاس میں اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی)، عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سینئر حکام نے بھی حصہ لیا۔ مزید برآں، جی 7 جلد توانائی وزراء کا اجلاس بھی منعقد کرے گا تاکہ عالمی توانائی کی صورتحال پر مزید حکمت عملی تیار کی جا سکے۔

اس اجلاس کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی، لیکن عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کی اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں اور عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی فراہمی اور مارکیٹ کی لیکویڈیٹی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے جس سے سرمایہ کاری کے بہاؤ متاثر ہوتے ہیں اور مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے۔ اس کے علاوہ، توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عالمی مہنگائی اور اقتصادی استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، جس سے مرکزی بینکوں کی پالیسیوں اور مالیاتی نظم و نسق پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔ اس لیے یہ اجلاس اور اس کے فیصلے عالمی مارکیٹوں میں اعلیٰ سطح کے اثرات کے حامل ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

ٹیگز:
شئیر کیجیے: