امریکی مالیاتی حکام نے ٹوکنائزڈ اثاثوں کے لیے ایک ٹیکنالوجی غیر جانبدار ضابطہ کاری اپنائی ہے جس میں بیسل ایکورڈ کے تحت کریپٹو اثاثوں کے خطرے کے سخت معیارات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت، ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز کو غیر ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز کے برابر قانونی حقوق دیے گئے ہیں، جس سے ان کی سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ متوقع ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق فیڈرل ڈپازٹ انشورنس کارپوریشن، فیڈرل ریزرو، اور آفس آف دی کمپٹرولر آف دی کرنسی نے کیا ہے، جو امریکی مالیاتی نظام میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔ اس اقدام سے نیو یارک اسٹاک ایکسچینج، گولڈمین سیکس، نازڈیک، اور دیگر بڑی مالیاتی اداروں کو فائدہ پہنچے گا جو پہلے ہی ٹوکنائزڈ اسٹاکس اور فنڈز کے لیے پائلٹ منصوبے چلا رہے ہیں۔ اس تبدیلی سے مارکیٹ میں شفافیت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ مالیاتی خطرات کی نگرانی اور ضابطہ کاری کے نئے چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ مستقبل میں اس رجحان کے تحت مزید مالیاتی جدت اور ٹیکنالوجی کے انضمام کی توقع کی جا رہی ہے، جو عالمی مالیاتی نظام پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance