ایران کے پہلے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے واضح کیا ہے کہ ایران کا بنیادی اسٹریٹجک مقصد مشرق وسطیٰ سے امریکہ کی مکمل واپسی اور اس کے فوجی اڈوں کی بندش ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال ایرانی حکام کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ جہانگیری نے مزید کہا کہ مضبوط حمایت کے ساتھ ایرانی جنگجو دشمنوں کا مقابلہ زیادہ عزم کے ساتھ کریں گے۔ اس بیان سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو علاقائی سلامتی اور سیاسی توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال سے خطے میں مستقبل میں ممکنہ تبدیلیوں اور تنازعات کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جس کا اثر عالمی سطح پر بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance