امریکی محکمہ خزانہ نے کانگریس کو ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں تجویز دی گئی ہے کہ غیر مرکزی مالیاتی نظام (ڈی فائی) کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف قوانین کے تحت لایا جائے۔ رپورٹ میں ایک ‘ہولڈ لا’ سیف ہاربر میکانزم قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے، جس کے تحت ادارے مشتبہ لین دین کی تحقیقات کے دوران عدالت کے حکم کے بغیر عارضی طور پر ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر سکیں گے۔ یہ اقدام اس بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر کیا گیا ہے جس میں کرپٹو کرنسی سے متعلق جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ ایف بی آئی کے مطابق، 2024 میں کرپٹو فراڈ سے ہونے والے نقصانات 9 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ اس رپورٹ کا مقصد مالیاتی نظام کی شفافیت اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ اگر یہ قوانین نافذ ہو گئے تو ڈی فائی پلیٹ فارمز پر نگرانی میں اضافہ ہوگا اور مالی جرائم کے امکانات کم ہوں گے، تاہم اس سے صارفین کی رازداری اور پلیٹ فارمز کی آزادی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ مستقبل میں اس حوالے سے مزید قانونی اور تکنیکی اقدامات متوقع ہیں تاکہ کرپٹو مارکیٹ کو محفوظ اور مستحکم بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance