روسی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ٹینکرز نے یوکرینی ڈرون حملے کے بعد بحیرہ روم کے علاقے سے گزرنے والے راستے تبدیل کر لیے ہیں۔ کم از کم تین ٹینکرز، جو روسی برآمدی منصوبوں کے تحت ایل این جی کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتے ہیں، نے اپنا راستہ بدل کر اس خطے سے بچنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک چوتھا ٹینکر، جو سوئز کینال کے ذریعے اس علاقے میں داخل ہوا تھا، نے اپنی روانگی روک دی ہے۔ یہ صورتحال ماسکو کی برآمدات کو بڑھانے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے اور اس کے بیرون ملک مالی وسائل تک رسائی کو محدود کر رہی ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں، مالٹا کے قریب ایک روسی ایل این جی ٹینکر پر حملہ ہوا تھا جس میں عملے کو محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا تھا اور جہاز کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس واقعے کے بعد روسی ایل این جی کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں، جس کا اثر عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ مستقبل میں اس خطے میں کشیدگی میں اضافہ توانائی کی فراہمی میں مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے، جس سے عالمی سطح پر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance