امریکا میں اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں مسلسل آٹھ تجارتی سیشنز کے دوران تقریباً 2.8 ارب ڈالر کی خالص سرمایہ کاری ہوئی ہے، جس سے ڈیجیٹل اثاثے کی قیمت دوبارہ 80 ہزار ڈالر کی نفسیاتی حد کے قریب پہنچ گئی۔ 27 اگست 2026 کو بٹ کوائن تقریباً 79,520 ڈالر پر कारोबार کر رہا تھا، جبکہ دن کے دوران قیمت 80,475 ڈالر تک بھی گئی۔ اس پیش رفت نے رواں ماہ کو اکتوبر 2025 کے بعد بٹ کوائن فنڈز کے لیے مضبوط ترین ماہانہ آمد والا مہینہ بننے کی راہ پر ڈال دیا ہے، بشرطیکہ موجودہ رفتار برقرار رہے۔ تاہم، تازہ ترین سیشن میں تقریباً 232 ملین ڈالر کی آمد 20 اگست کو ریکارڈ کیے گئے 606 ملین ڈالر کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی، جو خریداری کی رفتار میں کچھ کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔
مارکیٹ کے لیے اس واقعے کی اہمیت اس بات میں ہے کہ اسپاٹ ای ٹی ایف روایتی بروکریج اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے نظام کے ذریعے بٹ کوائن تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ مسلسل خالص آمد اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ بڑے سرمایہ کار قیمت میں حالیہ کمزوری کے بعد دوبارہ پوزیشنیں بنا رہے ہیں، جس سے مارکیٹ کی لیکویڈیٹی، طلب اور مجموعی جذبات کو سہارا مل سکتا ہے۔ ای ٹی ایف کے ذریعے ہونے والی خریداری براہ راست مارکیٹ میں بٹ کوائن کی طلب بڑھا سکتی ہے، جبکہ قیمت کا 80 ہزار ڈالر کے قریب پہنچنا تکنیکی سرمایہ کاروں اور قلیل مدتی تاجروں کی توجہ مزید مرکوز کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اس سطح پر کامیاب استحکام مزید تیزی کا اشارہ بن سکتا ہے، جبکہ بار بار ناکامی منافع لینے اور عارضی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔
اس کے باوجود، مسلسل آمد کو غیر مشروط تیزی کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ روزانہ سرمایہ کاری کے حجم میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ ابتدائی جوش کچھ کم ہوا ہے، اور قیمت کو بلند سطح پر برقرار رکھنے کے لیے نئے سرمایہ کاروں کی مسلسل شمولیت ضروری ہوگی۔ وسیع تر معاشی توقعات، شرح سود کے بارے میں پالیسی اشارے، امریکی ڈالر کی سمت، ریگولیٹری خطرات اور عالمی خطرے کے رجحان میں تبدیلی بٹ کوائن اور اس سے منسلک فنڈز پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ اگر ادارہ جاتی بہاؤ جاری رہتا ہے تو اگست کی مضبوط کارکردگی مارکیٹ کے اعتماد کی بحالی اور بٹ کوائن کو ایک قابلِ قبول مالیاتی اثاثے کے طور پر ادارہ جاتی استعمال میں اضافے کی علامت بن سکتی ہے، لیکن آمد رکنے یا اخراج شروع ہونے کی صورت میں یہی حساسیت قیمت میں تیز اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt