بٹ کوائن کے لیے کوانٹم مزاحم دستخطوں کی نئی تجویز، نیٹ ورک گنجائش برقرار رکھنے کا دعویٰ

بٹ کوائن کے محققین نے کوانٹم کمپیوٹرز سے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے SHRINCS نامی دستخطی طریقہ تجویز کیا ہے، جس کا مقصد بڑے اور کوانٹم مزاحم منظوری دستخطوں کو لین دین میں شامل کرنا ہے، جبکہ موجودہ پوسٹ کوانٹم ڈیزائنز کے مقابلے میں نیٹ ورک کی گنجائش پر کم دباؤ ڈالنا ہے۔

SHRINCS ایک ہیش پر مبنی کرپٹوگرافک اسکیم ہے جو بٹ کوائن کے موجودہ SHA-256 بنیادی ڈھانچے سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ اس کی مجوزہ خصوصیت یہ ہے کہ عام طور پر بار بار استعمال نہ ہونے والے بٹ کوائن اکاؤنٹس کے لیے نسبتاً مختصر دستخط استعمال کیے جا سکتے ہیں، جس سے بلاک اسپیس، ٹرانزیکشن فیس اور تصدیقی بوجھ میں ممکنہ کمی آ سکتی ہے۔

یہ تجویز اس خدشے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے کہ طاقتور کوانٹم کمپیوٹرز مستقبل میں بٹ کوائن کے موجودہ Schnorr اور ECDSA دستخطوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم SHRINCS ابھی حتمی بٹ کوائن اپ گریڈ نہیں بلکہ تحقیقی اور تکنیکی مسودہ ہے۔ اگلے مراحل میں سکیورٹی جائزہ، پیرامیٹرز کی تکمیل، نفاذ کی جانچ اور ڈویلپرز و کمیونٹی کی رضامندی شامل ہوگی۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

شئیر کیجیے: