ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث پٹرول کی درآمد تقریباً معطل ہونے کی تصدیق کی ہے، جس سے ملک کے پہلے سے دباؤ کا شکار ایندھن نظام پر مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔ ایرانی پارلیمان کی توانائی کمیٹی کے ترجمان رضا سپہوند کے مطابق سمندری راستوں میں رکاوٹ کے باعث بیرونِ ملک سے پٹرول منگوانا بند ہو گیا ہے، جبکہ ملک کو مقامی پیداوار اور کھپت کے درمیان مسلسل فرق کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کی یومیہ پٹرول پیداوار تقریباً 130 ملین لیٹر تک پہنچ چکی ہے، مگر روزانہ کھپت 137 ملین لیٹر کے قریب ہے، جس کے باوجود رسد میں کمی برقرار ہے۔ حالیہ رپورٹس میں بھی ایران کے پٹرول نظام کو درآمدی رکاوٹوں، محدود ریفائننگ گنجائش اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث شدید دباؤ میں بتایا گیا ہے۔
سپہوند نے خبردار کیا کہ اگر قومی شناختی نظام کے تحت ایندھن راشن بندی کی مجوزہ اسکیم نافذ کی گئی تو حکومت کو مستقبل میں پٹرول عالمی منڈی یا خلیجی آف شور قیمتوں پر درآمد کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورت میں سبسڈی کا بوجھ بڑھنے، سرکاری اخراجات میں اضافے اور بجٹ خسارے کے وسیع ہونے کا خدشہ ہے۔ ایران میں طویل عرصے سے کم قیمت ایندھن، بلند کھپت، گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سرحدی اسمگلنگ نے سرکاری مالیات پر دباؤ ڈال رکھا ہے۔ راشن بندی یا قیمتوں میں ردوبدل سے طلب کو محدود کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں عوامی ردعمل، مہنگائی اور غیر رسمی مارکیٹ کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
یہ پیش رفت عالمی تیل اور پٹرول مارکیٹ کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ ایران کی درآمدی ضرورت اور خلیجی سمندری راستوں تک رسائی میں رکاوٹ علاقائی رسد، شپنگ لاگت اور خطرے کے پریمیم کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگر ناکہ بندی طویل ہوتی ہے تو تہران کو محدود ذخائر، متبادل زمینی راستوں یا مہنگے سودوں پر انحصار کرنا پڑے گا، جبکہ تاجروں اور جہاز رانی کمپنیوں کے لیے پابندیوں اور نفاذ کا خطرہ بڑھے گا۔ اس صورتحال سے ایرانی ریال، توانائی سبسڈی، مالیاتی پالیسی اور صارفین کے اعتماد پر بھی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، جس کے باعث ایندھن کا مسئلہ محض مقامی قلت کے بجائے وسیع تر معاشی اور جغرافیائی سیاسی خطرہ بن گیا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance