امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ سان ڈیاگو میں تعینات طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر مشتمل کیریئر اسٹرائیک گروپ نے مشرقِ وسطیٰ میں تعیناتی کے دوران ہزاروں جنگی پروازیں اور آپریشنل مشن مکمل کیے ہیں۔ کمانڈ کے مطابق یہ بحری گروپ گزشتہ سال نومبر میں اپنی تعیناتی کے لیے روانہ ہوا تھا اور جنوری میں مشرقِ وسطیٰ پہنچا۔ اس کے بعد گروپ نے آپریشن ایپک فیوری، علاقائی سلامتی سے متعلق سرگرمیوں اور ایران کے خلاف جاری امریکی بحری ناکہ بندی کی حمایت میں فضائی و بحری کارروائیاں انجام دیں۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق طیارہ بردار جہاز سے مسلسل پروازوں نے خطے میں امریکی فضائی طاقت، نگرانی اور فوری ردعمل کی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے گرد فوجی کشیدگی عالمی منڈیوں کے لیے مرکزی خطرہ بن چکی ہے۔ ابراہم لنکن گروپ کی طویل تعیناتی اور بڑے پیمانے پر جنگی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ واشنگٹن خطے میں اپنی عسکری موجودگی کو محض دفاعی نگرانی تک محدود نہیں رکھ رہا، بلکہ ضرورت پڑنے پر فضائی حملوں، بحری نگرانی اور تجارتی راستوں کے کنٹرول کے لیے بھی تیار ہے۔ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی میں کسی بھی اضافے سے تیل، گیس اور سمندری نقل و حمل کے اخراجات پر فوری اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
مارکیٹ کے لیے اس خبر کی اہمیت کئی سطحوں پر ہے۔ بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمی خام تیل کی قیمتوں، توانائی سے متعلق حصص، دفاعی کمپنیوں اور محفوظ سمجھے جانے والے اثاثوں میں سرمایہ کاری کے رجحان کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ علاقائی کشیدگی میں اضافہ اسٹاک، ابھرتی ہوئی منڈیوں اور بلند خطرے والی کرنسیوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اگر ناکہ بندی طویل ہوتی ہے یا کسی امریکی، ایرانی یا تجارتی جہاز کو نقصان پہنچتا ہے تو رسد میں رکاوٹ، بیمہ کی بلند لاگت اور افراطِ زر کی توقعات عالمی مرکزی بینکوں کے فیصلوں پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ اس کے برعکس، کشیدگی میں کمی یا سفارتی پیش رفت سے تیل کی قیمتوں اور مارکیٹ کے خطرے کے پریمیم میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance