کرپٹو مارکیٹ میں قانون سازی، ادارہ جاتی پیش رفت اور سکیورٹی خدشات نمایاں رہے

گزشتہ ہفتے کرپٹو مارکیٹ میں امریکی قانون سازی، بڑے مالیاتی اداروں کی بڑھتی دلچسپی اور بٹ کوائن کی بڑی منتقلیوں نے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی۔ واشنگٹن میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے مجوزہ CLARITY Act کی پیش رفت اگرچہ مشکلات سے دوچار رہی، تاہم قانون سازی کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس بل سے کرپٹو صنعت کے لیے نگران اداروں، مارکیٹ کے ڈھانچے اور ذمہ داریوں سے متعلق زیادہ واضح قواعد متوقع ہیں۔

ادارہ جاتی سطح پر Mastercard نے اس شعبے میں اپنی حکمت عملی مزید آگے بڑھاتے ہوئے stablecoin انفراسٹرکچر فراہم کرنے والی کمپنی BVNK کو زیادہ سے زیادہ 1.8 ارب ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ کیا۔ اس اقدام سے روایتی ادائیگیوں کے نظام اور بلاک چین پر مبنی ریلز کے درمیان رابطہ بڑھانے کی کوشش ظاہر ہوتی ہے، جبکہ سرحد پار ادائیگیوں، ترسیلات اور کاروباری تصفیوں میں stablecoins کے استعمال کو تقویت مل سکتی ہے۔

دوسری جانب، بٹ کوائن رکھنے والی کمپنی Strategy کی جانب سے فروخت اور بڑے والیٹ ٹرانسفرز نے مارکیٹ میں رسد، لیکویڈیٹی اور سکیورٹی سے متعلق خدشات پیدا کیے۔ آئندہ سمت کا انحصار قانون سازی کی رفتار، ادارہ جاتی سرمایہ کاری اور بڑے حاملین کے فیصلوں پر رہے گا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk