روس اور یوکرین نے بحیرہ اسود اور بحیرہ آزوف میں تجارتی و رسدی جہازوں کے خلاف الگ الگ حملوں کا اعلان کیا ہے، جس سے خطے میں بحری سلامتی، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی شپنگ کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران روس سے منسلک چھ جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں دو ٹینکرز اور چار خشک مال بردار جہاز شامل ہیں۔ کیف کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز روس کے نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ تھے، جو پابندیوں کے باوجود روسی تیل اور دیگر سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یوکرین نے بندرگاہی تنصیبات، ایندھن و گولہ بارود کے ذخائر، ریڈار نظام اور فضائی دفاعی سازوسامان کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم جنگی فریقوں کے بیشتر دعووں کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔
روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس کی افواج نے بحیرہ اسود کی ایک بندرگاہ میں یوکرینی فوج کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کے ٹینکوں اور فوجی سامان لے جانے والے دو خشک مال بردار جہازوں پر زمینی ہتھیاروں اور ڈرونز سے حملہ کیا۔ اسی روز روسی بندرگاہ میں ترک پرچم بردار ایک خشک مال بردار جہاز کو بھی ڈرون حملے کا سامنا کرنا پڑا، اگرچہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔ بعض اطلاعات میں حملے کا الزام یوکرین پر عائد کیا گیا ہے، جبکہ انقرہ نے بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی اپیل دہرائی ہے۔ ترک پرچم یا ملکیت رکھنے والے جہازوں کا متاثر ہونا اس بحران کو براہ راست علاقائی سلامتی اور سفارتی دباؤ کے مسئلے میں بدل سکتا ہے۔
مالیاتی منڈیوں کے لیے اس واقعے کی اہمیت صرف جہازوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان تک محدود نہیں۔ بحیرہ اسود روسی توانائی، اناج اور صنعتی سامان کی برآمدات کے لیے اہم راستہ ہے، اس لیے مسلسل حملوں سے بیمہ لاگت، فریٹ ریٹس، جہازوں کے انتظار کے اوقات اور متبادل راستوں کی طلب بڑھ سکتی ہے۔ شیڈو فلیٹ کے خلاف کارروائی روسی تیل کی رسد اور پابندیوں سے بچنے کی صلاحیت پر بھی دباؤ ڈال سکتی ہے، جس سے توانائی کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی پریمیم پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اگر غیر جانب دار یا ترک جہاز مزید زد میں آئے تو بحری نقل و حمل میں احتیاط، ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں خطرے سے گریز اور خطے سے متعلق اثاثوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance