جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ بٹ کوائن کو درپیش اصل خطرہ اسٹریٹیجی کمپنی کی جانب سے بیٹ کوائن کی فروخت نہیں بلکہ پرائیویٹ بلاک چینز کی بڑھتی ہوئی قبولیت ہے جو عوامی نیٹ ورکس اور ان پر چلنے والے ٹوکنز کو نظر انداز کرتی ہے۔ اسٹریٹیجی کمپنی نے حال ہی میں بڑی مقدار میں بٹ کوائن فروخت کیے تاکہ اپنی مالی ذمہ داریوں کو پورا کیا جا سکے، جس سے مارکیٹ میں عارضی دباؤ پیدا ہوا۔ تاہم، جے پی مورگن کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ بلاک چینز کی طرف رجحان، جو کہ پرائیویسی، قانونی ذمہ داری اور ریگولیٹری یقین دہانی فراہم کرتے ہیں، عوامی بلاک چینز جیسے ایتھیریم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس رجحان کے نتیجے میں بٹ کوائن کی لیکویڈیٹی کم ہو سکتی ہے اور مارکیٹ میں سرمایہ کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی پرائیویٹ بلاک چینز کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے عوامی نیٹ ورکس کی اہمیت کم ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں، اگر یہ رجحان جاری رہا تو بٹ کوائن کی مارکیٹ ویلیو پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم بٹ کوائن کو بطور ڈیجیٹل گولڈ اپنی جگہ برقرار رکھنے کا امکان بھی موجود ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine