امریکی صدر نے ترکی میں نیٹو اجلاس کے دوران اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی ختم ہو چکی ہے اور مذاکرات کو وقت ضائع قرار دیا۔ اس بیان کے چند گھنٹوں بعد امریکہ نے خلیج فارس میں ایران کے خلاف ایک مرتبہ پھر فضائی حملے کیے، جو ایران کی طرف سے ہرمز کے تنگ راستے میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے، خاص طور پر تیل کی مارکیٹ میں جہاں برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ امریکی حکومت نے ایران سے تیل کی خرید و فروخت کے لیے جاری عمومی اجازت نامہ بھی منسوخ کر دیا ہے، جو اس خطے کی توانائی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance