برطانیہ نے انتخابی فنڈنگ کے حوالے سے نئے قوانین متعارف کرائے ہیں جو بیرون ملک سے آنے والی مالی امداد پر سختی سے نظر رکھیں گے۔ یہ اقدام خاص طور پر اصلاح پارٹی کے کرپٹو ارب پتی عطیہ دہندگان کو متاثر کر سکتا ہے۔ اصلاح پارٹی کے ایک اہم عطیہ دہندہ اور ٹیتر کے سرمایہ کار کرسٹوفر ہاربرن نے حال ہی میں برطانیہ میں ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹریشن کروائی ہے، جس کے بعد حکومت نے بیرون ملک سے آنے والی مالی امداد پر قابو پانے کے لیے قوانین سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت کو بڑھانا اور غیر ملکی اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔ مارکیٹ اور صارفین کے لیے اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ کرپٹو کرنسی سے متعلق سیاسی فنڈنگ میں کمی واقع ہو، جس سے اصلاح پارٹی کی مالی معاونت متاثر ہو سکتی ہے۔ آئندہ چند ماہ میں اس قانون کے نفاذ کے بعد انتخابی مہمات اور فنڈنگ کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اس کے علاوہ، دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس قانون کے تحت اپنی مالیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ ممکنہ پابندیوں سے بچا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt