برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے عمان کے ساتھ مل کر اس کے علاقائی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے تعاون کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ عمان کے ساتھ مل کر شپنگ سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں گے تاکہ بحر ہند میں تجارتی راستے محفوظ رہیں۔ اس بیان کے بعد ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہرمز کی تنگی علاقائی ممالک کے علاوہ کسی اور ملک کی فوجی سرگرمیوں کے لیے جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس تنگی کی سلامتی کو ساحلی ممالک کو مشترکہ طور پر برقرار رکھنا چاہیے اور کوئی بھی غیر ضروری فوجی اقدام بحران کا باعث بن سکتا ہے جس کے نتائج کے ذمہ دار وہی ہوں گے۔ ایران نے اس حوالے سے اپنی چوکس نگرانی کا اعلان کیا ہے اور اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ علاقائی سلامتی کے لیے کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس پیش رفت سے مشرق وسطیٰ میں سمندری سلامتی کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا اثر عالمی تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت پر پڑ سکتا ہے۔ مستقبل میں اس خطے میں فوجی اور سفارتی اقدامات کی نوعیت پر نظر رکھی جائے گی تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور سمندری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance