کرپٹو کرنسی کی دنیا میں ایک نیا رجحان ابھر کر سامنے آیا ہے جس میں بلاک چین ٹیکنالوجی کو صرف کرپٹو کے لیے نہیں بلکہ سرمایہ کاری کے لیے مالیاتی پرت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ مائیکل اینڈرسن، جو ایک معروف کرپٹو وینچر فرم کے شریک بانی ہیں، نے بتایا کہ اب بلاک چین کا استعمال سرمایہ کاری کے لیے کیپٹل انٹینسیو صنعتوں جیسے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں بڑھ رہا ہے۔ اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ کرپٹو صرف قیاس آرائی کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک مضبوط مالیاتی بنیاد کے طور پر ابھرا ہے جو جدید ٹیکنالوجیز کی ترقی میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس رجحان سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور صارفین کو بھی جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے لیے بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔ مستقبل میں اس مالیاتی انضمام کے ذریعے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی صنعتوں میں تیزی سے ترقی متوقع ہے، تاہم اس کے ساتھ کچھ مالیاتی خطرات اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال بھی موجود رہ سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk