برطانیہ کی ہاؤس آف لارڈز کی ایک کمیٹی نے بینک آف انگلینڈ کی جانب سے پیش کردہ مستحکم کوائنز پر پابندیوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ بینک آف انگلینڈ نے افراد کے لیے ہر کوائن کی حد 20,000 پاؤنڈ اور کاروباری اداروں کے لیے 10 ملین پاؤنڈ کی حد مقرر کی تھی۔ اس تجویز کا مقصد مالی استحکام کو یقینی بنانا اور کرپٹو کرنسی کے ممکنہ خطرات کو کم کرنا ہے۔ تاہم، کمیٹی نے اس حد بندی کو مارکیٹ کی ترقی اور صارفین کی سہولتوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ اس فیصلے کے فوری اثرات میں مستحکم کوائنز کی تجارت اور استعمال پر پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں، جو برطانیہ کی کرپٹو مارکیٹ کو محدود کر سکتی ہیں۔ آئندہ، بینک آف انگلینڈ کو اس معاملے پر مزید غور و خوض کرنا ہوگا تاکہ مالی نظام کی حفاظت اور مارکیٹ کی ترقی کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، دیگر مالیاتی ادارے اور کرپٹو مارکیٹ کے شرکاء بھی اس تجویز کے ممکنہ اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk