کوائن بیس کے اعلیٰ عہدیدار کا کلیرٹی ایکٹ پر اعتماد، کرپٹو مارکیٹ میں اہم تبدیلی کی توقع

امریکہ میں کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کے مستقبل کا انحصار سینیٹ کے ایک اہم ووٹ پر ہے جو اس ماہ متوقع ہے۔ کوائن بیس کے چیف پالیسی آفیسر فریار شیرزاد نے کلیرٹی ایکٹ کو مالیاتی ضابطہ کاری میں ڈوڈ-فرینک کے بعد سب سے اہم قانون قرار دیا ہے۔ اس قانون کا مقصد کرپٹو سیکٹر کے لیے واضح قواعد و ضوابط فراہم کرنا ہے جو مارکیٹ میں شفافیت اور استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ وائیومنگ کی سینیٹر سنیتھیا لمس نے اس قانون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کانگریس کرپٹو قوانین کے لیے آخری موقع ہے اور اگلی کوشش 2030 میں ہوگی۔ اس قانون کی منظوری سے نہ صرف کرپٹو ڈویلپرز کو قانونی تحفظ ملے گا بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے ضروری اوزار میسر آئیں گے۔ کوائن بیس کی حالیہ کامیابی، جس میں اسے امریکی ادارہ برائے کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کی جانب سے عالمی کرپٹو ڈیریویٹو مارکیٹس تک رسائی کی اجازت ملی ہے، اس قانون کی منظوری کے بعد مارکیٹ میں مزید اعتماد اور ترقی کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس قانون کے تحت بڑے بینک بھی کرپٹو سیکٹر میں داخل ہو سکیں گے، جس سے مالیاتی شعبے میں نئی سرمایہ کاری اور مواقع پیدا ہوں گے۔ مجموعی طور پر، یہ قانون امریکی کرپٹو مارکیٹ کے لیے ایک نیا دور شروع کر سکتا ہے، جس سے صارفین اور سرمایہ کار دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

شئیر کیجیے: