دیفائی سیکٹر میں اپریل کا مہینہ: ہیکرز کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور بینکوں کا بلاک چین سے دوری

اپریل کا مہینہ ڈیفائی سیکٹر کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوا ہے جہاں ہیکرز نے 30 دنوں میں سے 27 دنوں میں مختلف حملے کیے۔ اس عرصے میں بڑے مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جس نے مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا کیا۔ سیڑٹی ک کے سی ای او اور شریک بانی رونگ ہوی گو کے مطابق یہ چار سالوں میں ڈیفائی کے لیے سب سے خراب مہینہ تھا۔ اس صورتحال نے بڑی مالیاتی اداروں کو بلاک چین ٹیکنالوجی کے استعمال میں احتیاط برتنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بینکوں کی جانب سے بلاک چین سے دوری کا رجحان بڑھ رہا ہے کیونکہ وہ ہیکنگ کے خطرات اور مالی نقصان سے بچنا چاہتے ہیں۔ مارکیٹ کے صارفین اور سرمایہ کاروں کے لیے یہ صورتحال چیلنجز کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ ڈیفائی کی سیکیورٹی مسائل نے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ مستقبل میں، سیکورٹی کے بہتر اقدامات اور سخت قوانین کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ ڈیفائی سیکٹر میں استحکام اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، مالیاتی اداروں کی بلاک چین میں شمولیت کے حوالے سے محتاط رویہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

ٹیگز:
شئیر کیجیے: