اربیٹرم کرپٹو ضبطی کے مقدمے میں سرگرم وکیل چارلس گرسٹین نے اب ٹیتر کے خلاف وفاقی عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران کی انقلابی گارڈ سے منسلک OFAC کی جانب سے منجمد کردہ USDT کو دہشت گردی کے غیر ادا شدہ فیصلے رکھنے والے متاثرین کو منتقل کیا جائے۔ اس قانونی کارروائی کا مقصد ٹیتر کی جانب سے منجمد اثاثوں کی منتقلی کو یقینی بنانا ہے تاکہ متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔ اس درخواست سے کرپٹو مارکیٹ میں قانونی پیچیدگیوں اور ریگولیٹری دباؤ میں اضافہ متوقع ہے، جو سرمایہ کاروں اور صارفین کے لیے اہم اثرات رکھتا ہے۔ اگر عدالت اس درخواست کو منظور کرتی ہے تو اس سے کرپٹو کرنسیوں کے خلاف قانونی کارروائیوں میں ایک نیا باب کھل سکتا ہے، جس کے تحت منجمد اثاثوں کی بازیابی کے لیے مزید مقدمات دائر ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں مارکیٹ میں احتیاطی رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے اور کرپٹو اثاثوں کی قانونی حیثیت پر بحث مزید گہری ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk