بلاک سٹریم کے سی ای او ایڈم بیک نے بٹ کوائن کو مستقبل کے معاشی نظام میں ایک غالب کرنسی کے طور پر دیکھا ہے۔ ان کے مطابق، بٹ کوائن خزانے رکھنے والی کمپنیاں موجودہ فیاٹ مالیاتی نظام اور بٹ کوائن کے زیر اثر مستقبل کے نظام کے درمیان ایک قسم کی آربٹریج کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ بیک کا کہنا ہے کہ جو کمپنیاں آج بٹ کوائن خرید رہی ہیں، وہ اس کی بڑھتی ہوئی قبولیت اور فیاٹ کرنسیوں کی قدر میں کمی سے فائدہ اٹھا رہی ہیں، جو ابتدائی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ نظریہ مائیکل سیلر کی اس پیش گوئی سے مطابقت رکھتا ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت مستقبل میں لاکھوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، حالانکہ اس پر کچھ ناقدین کی طرف سے شک و شبہات بھی موجود ہیں۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں مارکیٹ میں بٹ کوائن کی قدر میں ممکنہ اضافہ اور مالیاتی نظام میں تبدیلی کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اس تبدیلی کے دوران ممکنہ خطرات اور مواقع کا بغور جائزہ لیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance