امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی ہرمز کی خلیج کے حوالے سے تازہ تجویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے جو اس خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی تھی۔ اس تجویز کا مقصد ہرمز کی خلیج کو دوبارہ کھولنا اور تنازعہ کو ختم کرنا تھا، تاہم صدر ٹرمپ نے اسے تسلی بخش نہیں پایا۔ اس پیش رفت سے خطے میں سیاسی اور اقتصادی حالات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ ہرمز کی خلیج عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس صورتحال سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ آئندہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی نوعیت اور عالمی برادری کی ردعمل اس مسئلے کے حل یا مزید کشیدگی کی سمت کا تعین کریں گے۔ اس وقت خطے میں استحکام کے لیے محتاط حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ عالمی معیشت پر منفی اثرات سے بچا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance