جونپر ریسرچ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، 2035 تک بین الاقوامی کاروباری اداروں کے مابین مستحکم کوائنز کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیاں 5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے میں مستحکم کوائنز کی کل ٹرانزیکشن ویلیو کا 85 فیصد حصہ بین الاقوامی کاروباری لین دین پر مشتمل ہوگا۔ اس پیش رفت سے عالمی مالیاتی نظام میں مستحکم کوائنز کی اہمیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جو کاروباری اداروں کو تیز، محفوظ اور کم لاگت والی ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ، یہ رجحان روایتی بینکنگ نظام پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور مالیاتی خدمات کی فراہمی کے طریقوں میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے عالمی تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی مالیاتی نگرانی اور ریگولیٹری چیلنجز بھی بڑھ سکتے ہیں۔ مستقبل میں، مستحکم کوائنز کی اس بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث مالیاتی اداروں اور حکومتی اداروں کو اس نئے نظام کے مطابق اپنی حکمت عملیوں کو ڈھالنا ہوگا تاکہ مالیاتی استحکام اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk