بٹ کوائن کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ہے جو حال ہی میں 80,000 ڈالر کے قریب پہنچ چکی تھی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے خطرے والے اثاثوں پر منفی اثر ڈالا ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ مارکیٹ میں بیئرش رجحانات غالب ہیں، تاہم تکنیکی تجزیے کے مطابق قیمت میں اچانک اضافہ ممکن ہے جو شارٹ سکویز کی صورت میں رالی کو تیز کر سکتا ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھایا ہے جس سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں کمی آئی ہے۔ اس صورتحال میں بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو کرنسیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ مستقبل میں مارکیٹ کی سمت تیل کی قیمتوں اور عالمی معاشی حالات پر منحصر ہوگی، جس سے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk