بٹ کوائن کی قیمت نے حال ہی میں 76,000 ڈالر کی اہم حد کو عبور کر لیا ہے، جو کہ کرپٹو مارکیٹ میں ایک نمایاں بریک آؤٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس مثبت رجحان کے پیچھے ایران کی جانب سے ہرمز کی تنگی کو مکمل طور پر کھلا رکھنے کا اعلان ہے، جس سے عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی کے دوران اس اہم سمندری گزرگاہ کو مکمل طور پر کھلا رکھا جائے گا، جس سے تیل کی فراہمی میں رکاوٹوں کا خدشہ کم ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف تیل کی قیمتوں کو نیچے دھکیل دیا بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا، جس کا اثر بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں پر پڑا۔ مارکیٹ میں اس قسم کی جغرافیائی کشیدگی کی کمی اکثر سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے، جس سے کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں استحکام اور اضافہ ممکن ہوتا ہے۔ تاہم، سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ خطے میں سیاسی صورتحال میں کسی بھی غیر متوقع تبدیلی سے مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آئندہ دنوں میں بٹ کوائن کی قیمت میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے، خاص طور پر جب عالمی تیل کی مارکیٹ اور جغرافیائی سیاسی حالات میں کوئی نئی پیش رفت ہو۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk