چین اس ماہ ہانگ کانگ میں سب سے بڑے یوآن میں نامزد سرکاری بانڈز جاری کرنے جا رہا ہے، جو عالمی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب ایران کے ساتھ جاری تنازعے کے دوران یوآن اثاثے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ چین کی جانب سے یوآن بانڈز کی فراہمی میں اضافہ اس کی کرنسی کو بین الاقوامی مارکیٹوں میں مضبوط کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس پیش رفت سے سرمایہ کاروں کی توجہ اس جانب مبذول ہوگی جو جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود استحکام کی تلاش میں ہیں۔ اس اقدام سے چین کی معیشت کو عالمی مالیاتی نظام میں مزید مستحکم مقام حاصل کرنے کی توقع ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک نیا موقع پیدا ہوگا۔ مستقبل میں اس قسم کی مالیاتی سرگرمیاں چین کی کرنسی کے عالمی اثر و رسوخ کو بڑھا سکتی ہیں، تاہم جغرافیائی سیاسی حالات میں ممکنہ تبدیلیاں اس پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance